ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سورنا سودھا میں دس سرکاری محکمے منتقل کرنےاسپیکر بی کولیواڈ کی درخواست

سورنا سودھا میں دس سرکاری محکمے منتقل کرنےاسپیکر بی کولیواڈ کی درخواست

Sun, 04 Dec 2016 04:10:34    S.O. News Service

بنگلورو۔3/دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی اسپیکر کے بی کولیواڈ نے کہاکہ بلگاوی کے سورنا سودھا میں کم از کم 8تا دس سرکاری محکموں کومنتقل کیا جانا چاہئے۔ آج ریاستی لیجسلیچر اجلاس ختم ہونے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان کی یہ خواہش ہے کہ کم از کم آٹھ تا دس اہم سرکاری محکمے بلگاوی کے سورنا سودھا میں قائم ہوں، اس سلسلے میں جلد ہی وہ حکومت سے بات کریں گے۔انہوں نے کہاکہ بیدر، گلبرگہ، بلگاوی اور آس پاس کے لوگوں کو ہر مسئلے کی یکسوئی کیلئے بار بار بنگلور کا رخ کرنے کی ضرورت نہ پڑے، یہ یقینی بنانے اور ساتھ ہی ان محکموں میں اگر کام درکار ہے تو بنگلور کے باشندے بلگام آئیں۔اس مقصد کے تحت ان محکموں کو بلگاوی میں ہی قائم کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے یہ اقدام کافی معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایاکہ سینئر آئی اے ایس آفیسر شالنی رجنیش نے مختلف سرکاری محکموں کی بلگاوی منتقلی کے متعلق حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی ہے، وہ یہ رپورٹ طلب کرکے اس کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بلگام میں اراکین اسمبلی کیلئے 100کمروں پر مشتمل ایک لیجسلیٹرس ہوم کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کیلئے ایک زمین کی نشاندہی بھی کی جاچکی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ مہاراشٹر کے ممبئی اور ناگپور میں جس طرح دو اسمبلیاں کام کرتی ہیں، کرناٹک میں بھی دو مراکز اقتدار ہونے چاہئے ایک بنگلور میں ودھان سودھا اور ایک بلگاوی میں سورنا ودھان سودھا۔ بہت جلد وہ ناگپور کا دورہ کریں گے اور وہاں اراکین اسمبلی کو دی گئی سہولتوں کا جائزہ لیں گے۔ شمالی کرناٹک کے بعض حصوں پر مشتمل علاحدہ ریاست کی تشکیل کے مطالبے کو بے مطلب قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ ریاست کو توڑنے کے خلاف ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ مہادائی مسئلے کو سلجھانے کی خاطر بہت جلد وہ ایک وفد گوا لے جانے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ نائیس گھپلے کے سلسلے میں رپورٹ ایوان میں پیش کئے جانے میں تاخیر کا تذکرہ کرتے ہوئے کولیواڈ نے کہاکہ رپورٹ کا مطالعہ کئے بغیر وہ اس پر دستخط نہیں کرپائے، جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی، دستخط کے بعد یہ رپورٹ ایوان میں پیش کی جاچکی ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ کسی وزیر کی طرف سے رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ نئے ضوابط کے تحت پہلے لیجسلیچر اجلاس کو مسٹر کولیواڈ نے کچھ حد تک کامیاب قرار دیا۔اس موقع پر اسپیکر نے بتایاکہ دس دن تک چلنے والے سرمائی اجلاس میں 50 گھنٹوں کی کارروائیاں ہوپائی ہیں۔خشک سالی کی صورتحال کے علاوہ دیگر امور پر بھی ایوان میں بحث ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایوان میں خشک سالی اور پانی کی قلت کے مسئلے پر ہوئی بحث میں 22 اراکین نے گیارہ گھنٹوں سے زیادہ بحث کی۔ مہادائی مسئلے پر بھی مختصر بحث کے بعد اس معاملے میں وزیر اعظم سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک سطری قرار داد منظور ہوئی۔ایوان میں دو نجی بلس پیش ہوئے اور 32 معاملات کو صفر ساعت میں اٹھایا گیا۔وقفہئ سوالات میں بھی کئی اہم معاملات پر حکومت نے اپنا موقف ایوان میں پیش کیا۔
 


Share: